Aug 13

آئندہ سال پاکستان غیر ملکی ٹیموں کی واپسی کا سال ہوگا: نجم سیٹھی کا خصوصی انٹرویو

Posted on Wednesday, August 13, 2014 in Interview

0,,17845763_303,00

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سبکدوش چیئرمین سیٹھی کا کہنا ہے کہ 2015ء پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کا سال ہوگا۔ سیٹھی کے بقول مفاد پرستوں نے قدم قدم پر ان کی راہ میں روڑے اٹکائے مگرعدلیہ نے ان کا موقف تسلیم کیا۔

ان کے مطابق ٹیم سلیکشن سے پچانوے فیصد سفارشی کلچر کو ختم کیا گیا ہے اور اگر نئے نظام کو پٹری سے نہ اتارا گیا تو چارسال بعد پاکستان دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن جائے گی۔

لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر ڈی ڈبلیو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں نجم سیٹھی کا کہنا تھا، ’’میں صرف تین ماہ کے لیے الیکشن کرانے پی سی بی آیا تھا مگر مفاد پرستوں نے عدالتوں کے ذریعے ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں اب عدالتوں کو بھی احساس ہوگیا ہے کہ غیرسنجیدہ عرض داشتوں کو اہمیت دینے سے ناصرف پاکستان کرکٹ کو نقصان ہوا بلکہ توہین عدالت بھی کی گئی۔ اس لیے اب امید ہے کہ رواں ماہ الیکشن کے بعد پی سی بی کو کام کرنے کا موقع مل جائے گا۔‘‘

نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا کہ اگلے برس پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بحال ہو جائے گی، ’’جائلز کلارک کی مدد سے چند ماہ قبل آئرلینڈ سے لاہور میں تین ایک روزہ میچوں کا معاہدہ ہوا تھا، میچ کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے شہر کی مکمل حفاظت کی بھی حامی بھری مگر کراچی ایئرپورٹ واقعہ کے بعد وزیراعظم نواز شریف کے خدشات ظاہر کرنے پر ہم نےآئرش ٹیم کی میزبانی سے معذرت کرلی البتہ اگلے سال یہاں غیرملکی ٹیم آوے ہی آوے۔‘‘

سیٹھی کے مطابق پی سی بی میں بڑے پیمانے پر پائے جانے والےسفارشی کلچر کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے انہوں نے وقار یونس اور مشتاق احمد سمیت دیگر پیشہ ورکوچز کا تقرر کیا اور اس سے ماحول میں خوشگوار تبدیلی آئی، ’’نئے دور میں صرف میرٹ اور پروفیشنل ازم کا بول بالا نہیں ہوگا بلکہ فرسٹ کلاس کرکٹ کے فرسودہ نظام کی اصلاح کی جا رہی ہے۔ کراچی اور ملتان میں اکیڈمیز اگلے بارہ ماہ میں فعال ہوجائیں گی۔ پاکستان سُپرلیگ کرانے کا بڑا قدم اٹھایا ہے اور اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو پی سی بی کو بہت آمدن ہوگی۔‘‘

نجم سیٹھی کے بقول سابقہ بورڈ کے غلط چلن کے سبب پاکستان کرکٹ کی دنیا میں تنہا رہ گیا تھا۔ میں نے پی سی بی کا مقدمہ لڑا اور پاکستان کی آئی سی سی میں اہمیت بحال کرائی۔ بھارت سے چھ سیریز کا معاہدہ طے کیا۔ اگر میرے دور کی پالیسیز کوچلنے دیا گیا تو چار برس بعد پاکستان دنیا کرکٹ میں اپنا لوہا منوا لے گا۔

نجم سیٹھی کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پی سی بی کی کارکردگی کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی سے منسوب کرنا جائز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں منتخب حکومتوں کی طرح چیئرمین کرکٹ بورڈ کو بھی کام نہیں کرنے دیا جاتا۔ چیئرمین کا کام انتظامی ہوتا ہے، ’’ٹیم جیت جائے تو لوگ کپتان کوکندھوں پر اٹھا لیتے ہیں اور ہارنے پرگالی چیئرمین کو پڑتی ہے، جس میں ماضی کے کھلاڑیوں اور سابقہ بورڈ سربراہان کی سیاست کار فرما ہوتی ہے۔ یہ لوگ پچھلے دروازوں سے پی سی بی میں دوبارہ گھسنے کی کوششوں میں رہتے ہیں۔ پی سی بی میں آج تک تمام بورڈ سربراہان ایوان صدر سے نامزد ہو کر آتے رہے مگر دوہرا معیار یہ ہے کہ یہ دوسروں کو غیر جمہوری ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ عہدہ کوئی نہیں چھوڑتا، میں بھی چاہتا تو تین سال کے لیے متفقّہ چیئرمین بن جاتا مگر مجھے فخر ہے کہ میں نے خود یہ عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا کیونکہ صحافت ہی میرا اوڑھنا بچھونا ہے۔‘‘

پاکستانی ٹیم کی سلیکشن کے بارے میں سیٹھی کا کہنا تھا کہ سلیکٹرز ایک دوسرے کی پسند کا خیال رکھتے تھے۔ ناکامی کا ملبہ سلیکٹرز اور کپتان ایک دوسرے پر ڈال دیتے تھے،اس لیے طویل صلاح مشوروں کے بعد اس معاملے کی تہہ تک پہنچ کر طریقہ کار کی اصلاح کی گئی۔ آج ٹیم سلیکشن میں پچانوے فیصد سفارشی کلچرکا خاتمہ ہوچکا ہے۔

سیٹھی کے مطابق مصباح الحق کو عالمی کپ 2015ء تک کپتان مقرر کرنا ایک آسان فیصلہ تھا، ’’کچھ لوگ آفریدی کو کپتان دیکھنا چاہتے تھے، ٹیم میں گروپ بندی کو ہوا مل رہی تھی، میں نے اپنے انتظامی تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے مصباح کے ریکارڈ اور قائدانہ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا اور ٹیم کو تقسیم ہونے سے بچالیا۔ یہی وجہ ہے میرے دور میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی تسلی بخش رہی۔‘‘

بورڈ میں بیتے اپنے تیرہ ماہ کو یاد کرتے ہوئے سیٹھی نے مزید کہا کہ انہوں نے کرکٹرز کی خوشحالی کے لئے کئی اقدامات کیے اور پی سی بی سے 125غیر ضروری ملازمین کو برطرف کیا۔ سابقہ ٹیسٹ کرکٹرز کی پینشن میں پچاس فیصد تک اضافہ کیا اور سیریز جیتنے پر پاکستانی ٹیم کا وننگ بونس ڈبل کر دیا۔

پاک بھارت ٹیسٹ سیریز کا مستقبل تابناک قراردیتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ میری چڑیا کے مطابق اگلے برس جنوری میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی ملاقات کے بعد بھارتی دفترخارجہ سے بھی کرکٹ سیریز کو گرین سگنل مل جائے گا۔ ہم نے ایک عرصے کے بعد بھارتی بورڈ کو ایف ٹی پی پر دستخط کرنے پر قائل کیا اور سرحدی جھڑپوں کے باوجود اگلے سال دونوں ملکوں میں سیریز کی بحالی بھی ہو کر رہے گی۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ پی سی بی کے نئے آئین میں پیٹرن کے اختیارات بہت کم ہوچکے ہیں اور اگر انہیں بالکل ہی ختم کر دیا جاتا تو پی سی بی ایک بے پتوار کا سفینہ بن جاتا، ’’ گورننگ بورڈ میں رہنے کا میرا مقصد پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔ نئے آئین کو آئی سی سی نے بھی تسلیم کیا ہے اور سپریم کورٹ نے بھی سراہا ہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں نجم سیٹھی نے کہا کہ انہوں نے کرکٹ بورڈ میں بہت محنت کی اس لیے ناجائز تنقید سن کر انہیں بہت دکھ ہوا، ’’مجھے میرے پرانے دوست اور سابق ٹیسٹ اوپنر آفتاب گل نے کرکٹ بورڈ جاتے وقت روکا تھا کہ آپ سانپوں کی دنیا میں کیوں جا رہے ہیں؟ مگر اس وقت تک میں سانپوں کی دم پر پاؤں رکھ چکا تھا۔ میں نے اپنی ذمہ داری پوری کردی ۔‘‘

Source: http://goo.gl/rhZRst
www.dw.de

Aug 11

The next Chairman should follow the merit-based yardsticks I have left behind: Najam Sethi

Posted on Monday, August 11, 2014 in Interview

By Amir Husain  

Najam Sethi: PCB was in the dumps when I came along. Fellow ICC administrators used to joke about some of our ex-chairmen. One was alleged to fall asleep during meetings. Another wasn’t able to understand the fine print or argue in English. And so on. The constant ins and outs of the Chairman were terribly unsettling for them. Thank God all that is behind us now.

PakPassion.net: There are contradicting reports on the financial situation of the PCB. Can you clarify the situation regarding PCBs finances, is it as dire as some are saying?

Najam Sethi: I was told one harsh fact by the CFO in my first meeting on the budget that if things continued in the same manner, PCB would be bankrupt in 3 years! I was aghast at the continuing deficit that was eating into our reserves. But during the year ended 30 June 2014 the following are the brief highlights:

  1. Highest Pretax profits of PKR 800 Million since 2011.
  2. Profits are PKR 800 Million against budgeted deficit of PKR 366 Million for this year due to austerity measures, economies of all scales & generation of better revenues especially television rights.
  3. Twelve percent reduction in Administrative cost of PCB as compared to previous year. Mainly because of reduction of staff, elimination of unnecessary travel, elimination of unnecessary advertisement & promo expenses.
  4. Drastic & large economies in expenses pertaining to cricket series being played at neutral venues. PKR 657M was budgeted while actual expense is about PKR 500 Million – reduction of about 24%.
  5. Seventeen percent reduction in expenses on tours outside Pakistan. PKR 246M was budgeted while actual expense was PKR 217M.
  6. Rationalization of other cricketing expenses – Reduction in Coach Fee, Committee Expenses, Regional ground maintenance & operational expenses & players development activities.
  7. Increase in Investment Income as compared to previous year and budget.
  8. Complete stopover of massive capital expenditure that was originally budgeted for PKR 2 Billion & was subsequently reduced to PKR 196 Million. This saved millions for PCB & hence greatly contributed towards enhanced liquidity of PCB.

PakPassion.net: You’ve made changes to domestic cricket in Pakistan. Do you think those changes will work and if so, why?

Najam Sethi: Yes they will work because of two factors. Firstly, the entry of the market and sponsors into domestic cricket and secondly, the fact that the next elected board of governors will cement these changes. Don’t forget, out of ten members, of the new BoG, five are those who were members of the Management Committee of which I was chairman that sanctioned these changes. So there will be continuity.

PakPassion.net: How do you think the PCB can encourage fans to take more of an interest in 4 day and 50 over domestic cricket in Pakistan?

Najam Sethi: Everything depends on how much money our new sponsors will put into their regional teams and make cricket exciting enough to bring PTV, GEO and other broadcasters on board.

PakPassion.net: Do you think more domestic cricket should be televised in Pakistan and if so how can that be achieved?

Najam Sethi: Yes, absolutely. That is going to happen. It is the way of the world. Broadcasters will come in if the Sponsors dip into their pockets to make events more exciting.

PakPassion.net: You faced criticism from some on your decision to call-up Younis Khan to the one day squad for Sri Lanka despite the captain & coach being against this decision. Do you not think that could cause animosity amongst the squad and management?

Najam Sethi: On the contrary, the Selectors accepted their error of judgment in awarding him B category and accepted my intervention to set the record straight by granting him A category. And see how Younis has paid us back by scoring 177 in his very first outing!

PakPassion.net: What was the most frustrating aspect of being Chairman PCB?

Najam Sethi: I was struck by the negative role of the media and courts in general and some ex-cricketers with vested interests to protect or axes to grind. Because of my association with one channel, the other channels were hostile towards me. And ex-cricketers who didn’t get the jobs they wanted were overcome by sour grapes. When I cancelled the free foreign junkets of a coterie of journalists nurtured by the ex-chairman that was costing PCB Rs 1 crore every year, I was targeted.

PakPassion.net: What would you say was your greatest achievement as Chairman and what didn’t go so well?

Najam Sethi: I survived the snake pit and put PCB on the rails again!

PakPassion.net: Any words of advice for whoever takes on the role of Chairman next? 

Najam Sethi: The next Chairman should follow the merit-based yardsticks I have left behind.

PakPassion.net: Who would you like to see as the next chairman of the PCB? Should this be someone who has done this job before or would you prefer a completely new/fresh face?

Najam Sethi: I hope ex-Foreign Secretary and ex-Chairman PCB, Mr. Shahryar Khan, is elected as the next Chairman. With his vast cricket and diplomatic experience, he will be an asset to PCB like he was as a member of the Management Committee of the last year or so.